رائچور/بیدر،23/اگست ( ایس او نیوز ) اترپردیش کے گورگھپور اسپتال میں ہوئی مسلسل بچوں کی اموات نے ملک بھر میں کہرام مچادیا تھا۔ یہ معاملہ ابھی تمنے کو تھا کہ ریاست کرناٹک کے مختلف اسپتالوں میں بچوں کی اموات کے فوری بعد ائچور و بیدر اضلاع میں بھی بچوں کی اموات کی اندوہناک خبر سے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران رائچور ضلع میں 70بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ۔ ضلع میں بچوں کی مسلسل اموات کی وجہ تغذیہ بخش غذا کی کمی بتایا جارہا ہے، ناقص اور غیر متوازن غذاؤں کی وجہ سے بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دو سال کے درمیان 1514بچے فوت ہوگئے ہیں۔ یہاں ریمس اسپتال رہنے کے باوجود نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے۔ مسلسل اموات کی وجہ سے عوام الناس نے اسپتال اور ڈاکٹروں کے خلاف انتہائی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔عوام الناس کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بچوں کی اموات کا سلسلہ کیوں جاری ہے۔ شرح اموات میں کمی کیوں نہیں آرہی ہے ضلع محکمہ برائے بہبودی خواتین و اطفال بچوں کی اموات کی وجوہات تلاش کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ اب تک یہ پتہ نہیں لگایا جاسکا کہ اموات کیوں ہورہی ہیں۔
اترپردیش (یوپی) کے گورکھپور میں آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے 60سے زائد بچے مناسب و موزوں معالجہ نہ ہونے کی بنا ء پر موت کا شکار ہوگئے، لیکن بیدر کے بیمس اسپتال میں سب کچھ دستیاب رہتے ہوئے بھی مناسب علاج نہ ہونے پر بچے موت کی زد میں آرہے ہیں۔ گزشتہ 6؍ ماہ کے دوران 502بچوں میں سے 148بچوں کی اموات ہونے کے اطلاع ہے ، اس اسپتال میں تمام وسائل فراہم ہیں تاہم مناسب علاج اور دوائیں اثر انداز نہ ہونے کی بناء پر مسلسل بچوں کی موت واقع ہورہی ہے، یہ اعداد و شمار ضلع اسپتال سے جاری کئے گئے ہیں، ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ 4؍ ماہ کے دوران مرنے والے بچوں کی تعداد انتہائی تشویشناک ہے۔ یمس بیدر میڈیکل کالج اب 750بستروں والا اسپتال ہے، ہردن ہزاروں افراد مناسب علاج و معالجہ نہ ہونے کی بنا ء پر واپس چلے جاتے ہیں لیکن اس اسپتال میں قائم بچوں کے وارڈ میں جب عوام اپنے بچوں کو علاج کے لئے لے آتے ہیں تو وہاں کا ماحول دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ ایسے اسپتال میں بچوں کی مسلسل اموات نے عوام کو پریشان کردیا ہے۔
بچوں کی اموات صرف رائچور ، بیدر اور کولار کے اسپتالوں میں ہیں نہیں بلکہ داونگرہ ضلع میں بھی اطفال اموات کی خبرہے، داونگرہ کے چگٹیری اسپتال کے حاملہ اور اطفال شعبہ میں ایک ہی دن تین بچوں کی موت ہونے کی اطلاع ہے۔ داونگرہ تعلقہ کے ردرن کٹے گرام کی رہائشی نیتراونی نامی حاملہ خاتون کی زچگی کے بعد دو بچے فوت ہوگئے، عوام کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں کی لاپروائی کی وجہ سے بچوں کی اموات ہورہی ہیں، لیکن ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ خاتون اسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہی بچے کی ماں کی کوکھ میں ہی فوت ہوگئے ہیں ۔ خاتون کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اسپتال کو آنے سے قبل بچوں کے زندہ ہونے کی خبر تھی۔ آپریشن کیا جاتا تو بچے شائد زندہ رہتے ، لیکن علاج و معالجہ میں کی گئی تاخیر کی وجہ سے بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ایک اور معاملہ میں مانکوری کی رہائشی سویتا کی زچگی کے بعد بھی یہی معاملہ پیش آیا، اس نے لڑکے کو جنم دیا۔ لیکن وہ فوت ہوگیا موت کی وجہ اب تک معلوم نہ ہوسکی۔